اسلامی معاشیات' مروجہ معاشیات اور مطلوب رویہ
ایکونامکس [Economics] یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی خانگی انتظام و انصرام [House-Hold Management] ہے۔ تقریباً اسی مفہوم میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے مفید تدبیرات [ارتفاقات] کے سلسلہ میں تدبیر منزل [خانگی تدبیر] کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ البتہ شاہ صاحبؒ کے یہاں یہ موضوع خانگی امور تک محدود نہیں رہا اور اس کے دائرہ کار میں زمین پرانسانی زندگی کے دیگر امور شامل ہو گئے۔انہوں نے بھی نکاح کے ذریعہ ایک خاندان کے وجود میں آنے سے ابتداء کرتے ہوئے اپنے مباحث کو [ارتفاق ثانی میں] فن معاملات کے نام سےآگے بڑھایا ہے جس کے تحت تبادلہ اشیاء،تعاون باہمی اور ذرایع معاش کے امور بیان کئے ہیں۔[1]
جدید دنیا میں معاشیات کے نام سے جو علم مقبول ہوا ہے اس کی تاریخ چند صدیوں پر محیط ہے۔ ہم اسے مروجہ معاشیات سے موسوم کر سکتے ہیں۔ اس شکل میں اس علم کی ابتداءاسکاٹ لینڈ کے مصنف آدم اسمتھ(Adam Smith) کی کتاب An Enquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations سے ہوئی جو 1776ء میں شائع ہوئی۔ شروع میں اس علم کی تعریف دولت کا علم [Science of Wealth] سے کی گئی لیکن اس پر مغرب کے بہت سے مفکرین نے سخت تبصرہ کیا اور اسے منفی سائنس کہنے لگے۔ اس کے باوجود 110 سال سے زائد عرصہ تک یہ تعریف جاری رہی۔1890ء میں انگریز مصنف الفرڈ مارشل (Alfred Marshall)نے اس علم کی ایسی تعریف کی جس سے اس کا مرکزی موضوع دولت کی جگہ انسان اور اس کی فلاح و بہبود بن گیا اور سابقہ منفی تبصرہ کا ازالہ ہو سکا۔ مارشل کے مطابق انسان اپنی مادی منفعت کے لئے آمدنی حاصل کرتا ہے اور خرچ کرتا ہے۔ اس کی اسی سرگرمی کا مطالعہ معاشیات ہے۔اس تعریف میں بہت عموم تھا اور دیگر علوم جو انسانی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں ان سے اس کا فرق واضح نہیں ہو سکا تھا۔ اس نئے علم کی یہ نئی تعریف چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک مقبول رہی۔ 1932ء میں لندن یونیورسیٹی کےلائونیل روبنس(Lionel Robbins) نے ایک نئی تعریف پیش کی جو مقبول ہوئی۔ اس سے اس علم کے خد و خال زیادہ واضح اور نمایاں ہو گئے اور دوسرے علوم سے اس کا فرق بھی ظاہر ہو گیا۔اس کے مطابق اس علم میں کثرت احتیاج اور قلت وسائل کے درمیان انسانی رویہ کا مطالعہ درپیش ہے ۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں جب کہ ان کی تکمیل کے لئے جو وسائل زمین پر مہیا ہیں وہ قلیل ہیں اور ان کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ اس کے سبب انسان کو ایک علم کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ اس مسئلہ سے اچھے طریقہ سے نبرد آزمہ ہو سکے۔ یہی علم معاشیات ہے۔ اس طرح تقریباً دیڑھ سو سال کے علمی سفر میں اس علم کا مرکزی موضوع دولت سے شروع ہو کر، انسامی فلاح کے لئے آمدنی و اخراجات کے مطالعہ سے گزر کر قلت وسائل تک پہنچا تھا۔
یہ بات ظاہر ہے کہ درج بالا مسائل و معاملات انسان کو ہمیشہ درپیش رہے ہیں۔ایک خاص نام سے ایک خاص علم کی تاریخ تین صدیوں سے کم ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس سے قبل متذکرہ امور پر علمی اور عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا ہو۔ جہاں تک اسلامی تاریخ کا تعلق ہے یہ امور فقہ المعاملات کے تحت علمی و عملی میدان کا موضوع رہے ہیں۔ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک قابل قدر عرصہ تک دنیا کے بڑے حصہ کے معاملات پرحکمرانی کے زمانہ میں درپیش مسائل کا سامنا کیا ہے اور علمی کاوشیں اور عملی صورت گری کے آثار تاریخ نے محفوظ کئے ہیں۔
اسلامی رویہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسان کو دنیا کی زندگی میں دو طرح کے تعلقات سے واسطہ ہوتا ہے، ایک خالق کے ساتھ اور دوسرے مخلوقات' خصوصاًً اپنے جیسے دیگر انسانوں' کے ساتھ۔ ان تعلقات کو نبھانے میں انسان کے درست رویہ کو عبادت اور عمل صالح کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ عبادت ایک جامع اصطلاح ہے جس میں دونوں طرح کے تعلقات [یعنی خدا اور بندگان خدا کے سلسلہ میں انسانی رویہ] شامل ہیں۔ البتہ اسلامی قانون کے ماہرین [فقہاء] نے قانونی ضرورتوں کے تحت عبادت و معاملات کی تفریق کی ہے۔ یعنی خدا سے تعلقات کے تقاضے[حقوق اللہ] اوربندگان خدا سے تعلقات کے تقاضے [حقوق العباد]کو الگ الگ باب کے تحت واضح کیا ہے۔ ذیل میں اسلامی علوم کی ایک بڑی شخصیت سید سلیمان ندوی رح کی تحریر کے اقتباس سے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
"اسلام میں عبادت کو بڑی وسعت حاصل ہے۔اس کے اندر ہر وہ کام داخل ہےجس کی غرض خدا کی خوشنودی ہو،۔ اس لئے اخلاق و معاملات بھی اگر اس کی خوشنودی کے ساتھ کئے جائیں تو وہ عبادات میں داخل ہیں۔ مگر فقہاء نے اسطلاحاً یہ تین الگ الگ اور مستقل ابواب قرار دئے ہیں جن کی تفصیل یوں کی جا سکتی ہے کہ اولاً اعمال صالحہ کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس کا تعلق خاص خدا سے ہے اس کو عبادت کہتے ہیں، دوسری وہ جس کا تعلق بندوں سے ہے۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس کی حیثیت صرف انسانی فرض کی ہوتی ہے، اور دوسری وہ جس میں قانونی ذمہ داری کی حیثیت ملحوظ ہوتی ہے ۔ پہلے کا نام اخلاق اور دوسرے کا نام معاملات ہے۔"[2]
اسی تفریق کی بنیاد پر سید سلیمان ندوی ؒنے سیرت النبی کی جلد پنجم عبادات، جلد ششم اخلاق اور ہفتم معاملات کے لئے مخصوص کر دی تھی۔ گرچہ مدت حیات تمام ہونے کے سبب آخری جلد میں زیادہ تفصیل بیان کرنے کا مصنف کو موقع نہیں ملا۔مصنف موصوف نے معاملات سے مراد وہ تمام احکام شریعہ لئے ہیں جن کی حیثیت قانون کی ہے اور جن کا منشاء جان و مال و آبرو کی حفاظت ہے خواہ وہ اشخاص کی مصلحت سے متعلق ہوں یا خاندان کی یا پوری آبادی و مملکت [مدینہ] کی۔ آگے مصنف نے مزید تین قسمیں کی ہیں اور انہیں معاشریات، اقتصادیات اور سیاسیات کا نام دیا ہے۔ اقتصادیات کے تحت مصنف نے تمام مالی و تجارتی کاروبار کے بیان کو شامل کیا ہے۔[3]
ہماری توجہ کا موضوع اقتصادیات ہےجسے معاشیات بھی کہتے ہیں۔ معاشیات کا مادہ 'ع ''ی 'اور 'ش' ہے۔ عربی میں عیش زندگانی کو کہتے ہیں یعنی دنیا کی زندگی میں انسانوں کی ضرورتوں کی فراہمی اور ان سے متعلق امور اس موضوع کے تحت زیر بحث آتے ہیں۔انسانوں کے درمیان قانونی نوعیت کے جو تعلقات پیدا ہوتے ہیں ان کے دو اسباب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جن پر ایک فرد کے اپنے ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے اوردوسرا وہ جو اس کے قصد اور ارادہ کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک فرد کا کسی خاندان یا علاقہ یا ملک میں پیدا ہونے میں اس کے اپنے ارادہ و کاوش کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے لیکن اس واقعہ کے سبب تعلقات' عرف اور قوانین کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان کا وہ پابند ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک شخص کسی بازار میں کوئی سامان خریدنے کے لئے جاتا ہے اور اس بات کے لئے آزاد ہوتا ہے کہ جس دوکان میں جانا چاہے جائے۔ اس آزادی کے نتیجہ میں اپنے ارادہ کے تحت جب وہ کسی دوکان سے کوئی سامان انتخاب کر کے معاملہ [بیع] کر لیتا ہے تو اس کا تقاضہ یعنی طئے شدہ رقم کی ادائیگی کا پابند ہو جاتا ہے۔ یہ دوسری نوعیت کا قانونی معاملہ معاشیات کا موضوع ہے۔
علم معاشیات کی تعریف بیان کرنے اور اس کی مشمولات اور سرحدوں کومتن کرنے میں جدید دور کے مصنفین اور علوم اسلامی کے ماہرین نے اپنے اپنے اسلوب میں جو باتیں کہی ہیں ان میں مطابقت موجود ہے۔آدم اسمتھ نے دولت سے متعلق علم کا تذکرہ کیا' الفرڈ مارشل نے انسانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے آمدنی حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی کاوش کا ذکر کیا اور لائونیل رابنس نے وسائل حیات کی قلت کی وجہ سے مسائل حیات کے تقاضوں کے لئے کی جانے والی سعی کو اہمیت دی۔ دولت کے حصول' آمد و صرف کے لئے سرگرمی عمل اور قلیل وسائل حیات کے درست استعمال کے سلسلہ میں انسانی ذمہ داریوں اور انسانوں کے درمیان ان نوع کے تعلقات کے قانونی[شرعی] تقاضے بھی اسلامی علوم کے ماہرین کی توجہات کا موضوع رہے ہیں۔ البتہ اقدار کے فرق کے سبب دونوں سمت کے ماہرین کے رویوں میں فرق واقع ہوا ہے۔
اقدار کا فرق
جدید دور میں انسانی ضروریات کے لفظ میں انسانی خواہشات شامل ہیں۔ یہ ضروریات و خواہشات انسان کو زمین پر مہیا وسائل سے زیادہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ضروریات زیادہ ہیں اور وسائل محدود ہیں۔ اس طرح لامحدود ضروریات کو محدود وسائل کے ذرریعہ پورا کرنا علم معاشیات کا موضوع بنا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اشیاء زمین پر فی نفسہ قلیل ہیں یا اس قلت کے ہونے اور اس کے محسوس کئے جانےکی دیگر وجوہات ہیں۔ مروجہ معاشیات کے بیشتر مصنفین قلت فی نفسہ کے قائل ہیں۔ حتی کہ انگریز ماہر معاشیات ڈیوڈ ریکارڈو(David Ricardo) نے کرایا [اجر] کے اصول بیان کرتے ہوئے اس کا سبب فطرت کی کنجوسی (Niggardliness of Nature)قرار دیا ہے۔ فطرت کی کنجوسی کی یہ اصطلاح ایک اصول کے طور پر بہت سے مغربی مفکرین 'مثلاًً جان اسٹوارٹ مل(John Stuart Mill)' استعمال کرتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ قلیل وسائل پر کارکردگی میں بہتر افراد کا زیادہ حق ہے۔ یعنی وہ اگر زیادہ وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں تو ایسا ہونا درست ہے اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ اور اسی مفروضہ کے تحت انسانی آبادی کو کم کرکے موجود وسائل سے مطابقت پیدا کرنے کا تصور پیدا ہوا۔ اس طرح انسان جسےکسی بھی منصوبہ کا مقصد (Object of Planning) ہونا چاہئے اسے منصوبہ کا موضوع(Subject of Planning) بنا دیا گیا۔اشیاء کو انسانوں کے لئے استعمال ہونا چاہئے نہ کہ انسانوں کو اشیاء کے لئے۔ دراصل مروجہ معاشیات کے عروج کا زمانہ مغرب میں جدید علوم اور مذہب کے درمیان کشاکش کا زمانہ ہے اس لئے اس کے مصنفین میں اکثر نے یہ اصول اپنا لیا کا اس علم کا مذہب اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے بلا تکلف اس طرح کے جملے لکھے کہ اکونامکس اقدار سے آزاد ہے (Economics is Value-Free) یا یہ اقدارسے لاتعلق ہے(Economics is Value-Neutral)۔
مذہب ااور سائنس کے درمیان اختلافات اور ایک کو اختیار کرنے کے لئے دوسرے کا انکار کرنے کی تاریخ و ضرورت مسلمانوں کا مسئلہ کبھی نہیں رہا۔ معاشیات کے مسلم ماہرین نے مروجہ معیشت کے درج بالا رجحانات سے اپنی بے زاری اور اس سلسلہ میں اپنا موقف بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر فضل الرحمن فریدیرح نے اس موضوع پر قلم اٹھایا-[اسلامی معاشیات:ایک تعارف' مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز' نئی دہلی].وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خالق کائنات نے انسانوں کی تمام ضروریات کا سامان زمین پر فراہم کر دیا ہے جن کی تلاش و جستجو اور ان کا درست استعمال انسانوں کا کام ہے۔ وسائل کی قلت فی نفسہ نہیں ہے بلکہ انسانوں کے مظالم، بشمول حرص اور کارکردگی کی خرابی کے باعث انسانوں کا ایک طبقہ ان کے بڑے حصہ پر قابض ہو جاتا ہے اور بڑا طبقہ محروم رہ جاتا ہے۔ اس لئے مسائل کا حل عدل اور انصاف کا قیام اور معیشت کو درست بنیادوں پر قائم کرنا ہے۔معیشت' اقدار کی نفی کی بنیاد پر درست نہیں کی جا سکتی ہے اور ان اقدارکو ہر زمانہ اور ہر علاقہ کے لئے یکساں طور پر جاری ہونا چاہئے۔
اشیاء ' خدمات اور مال
انسانی ضرورتوں کے لئے مروجہ معیشت میں اشیاء اور خدمات (Goods and Services)کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔معاشیات کی کتانوں میں اگر صرف اشیاء کا ذکر ہو تب بھی خدمات ان میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔ مثلاً انسانوں کو اگر کھانے، پہننے، رہنے اور دیگر ضروریات کی حاجت ہے تو وہیں علاج کے لئے طبیب، مقدمات کے لئے وکیل، تعمیرات کے لئے انجینئراور حساب و کتاب کے لئے محاسب اور اس نوع کی دیگر چیزوں کے لئے خدمات بھی درکار ہیں۔ ان دونوں کے تبادلے اور خرید و فروخت سے آمدنی و اخراجات کا عمل جاری ہوتا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ استعمال ہوتی رہتی اور ان کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں اس لئے ان کے مسلسل پیداوار اور ترسیل کا نظم معاشیات کے اہم ابواب ہیں۔
ہر چیز کے لئے اشیاء یا خدمات کی اصطلاح استعمال نہیں کی جا سکتی۔ معاشیات میں چند خصوصیات کی حامل چیزیں ہی اس نام سے موسوم کی جاتی ہیں۔ ان دونوں کے مجموعہ کے لئے 'مال' کی اصطلاح بھی مستعمل ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ مروجہ معاشیات اور اسلامی علوم میں مال کی جو صفات بتائی جاتی ہیں ان میں تقریباً یکسانیت ہے ۔ دراصل انسانی علوم انسانیت کا ورثہ ہیں اور انسان سابقہ تجربات سے محسوس اور غیر محسوس طریقہ سے استفادہ کرتا رہتا ہے۔
مال کی خصوصیات
انسان مال کو جمع کرنے کی انسان خواہش کرتا ہے اور اس سے اس کی روزمرہ کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ ان میں درج ذیل صفات ہونی چاہئیں۔
1 انسان کا دل اس کی طرف مائل ہو اور وہ اس کی کشش محسوس کرے۔
2 اس سے کوئی ایسا فائدہ حاصل کیا جا سکےجس سے انسان مانوس ہو اور اسے اس فائدہ کی ضرورت ہو۔
3 انسانوں کی ایک قابل ذکر تعداد اس کو مال سمجھتی ہو اور اس کو بطور مال حاصل کرنا چاہتی ہو،
4 اسے حاصل کیا جا سکے' محفوظ کیا جا سکےاور قبضہ میں لیا جا سکے۔
جن چیزوں میں یہ چار صفات ہوتی ہیں ان کے لئے تبادلہ اور آمد و صرف کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے کے لئے پیداوار اور ترسیل کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔
مال کی ایک اور قسم ہے جسے حقوق مجردہ (Abstract Right)کہتے ہیں جسے مروجہ معاشیات میں مال کی حیثیت حاصل ہے اس لئے ان کی بنیاد پر لین دین کا طریقہ رائج ہے، اس میں ساکھ (Goodwill)اور حق تصنیف(Copy Right) شامل ہیں جنہیں فکری حق ملکیت (Intellectual Property Right)بھی کہا جاتا ہے۔ فقہائے اسلام میں اس نوع کے حقوق کے درست اور نادرست ہونے پر اختلاف رہا ہے اور ان کی غالب اکثریت اس کے جواز کی قائل نہیں تھی۔ البتہ اب تقریباً اس حق کو قبول کر لیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر خرید و فروخت اور نتیجتاً آمد و صرف کو جائز مان لیا گیا ہے۔
اسلامی لٹریچربشمول قران و احادیث اور فقہاء کی تصنیفات میں مال کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ ہم اگر معاشیات کے لئے اسلامی لٹریچر میں کوئی مانوس لفظ تلاش کرنا چاہیں تو اسے فقہ المعاملاۃ المالیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ گرچہ اس تکلف کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
معیشت سے متعلق مطلوب اسلامی رویہ
وساٗئل حیات کے سلسلہ میں اسلامی رویہ مثبت اور فعال ہے۔ یعنی ان کا درست طریقہ سےحاصل کرنا اور استعمال کرنانہ صرف گوارا ہے بلکہ پسندیدہ اور مطلوب ہے۔ قران کریم میں زمین کو انسانوں کی رہنے کی جگہ بنانے اور اس میں ان کے لئے سامان زندگی پیدا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے [و لقد مکنکم فی الارض و جعلنا لکم فیھا معایش ۔ القران ۔ 7:10 ] ۔ اس طرح زمین پر حیات انسانی کے لئے جو سامان اللہ تبارک و تعالی نے فراہم کر دئے ہیں وہ نعمت ہیں جن سے مستفید ہونا اللہ تبارک و تعالی کا شکر بجا لانا ہے۔ اسی آیت میں آگے یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ تم لوگ کم ہی اس کا شکر بجا لاتے ہیں [قلیلا ما تشکرون] ۔ نعمت کو عطیہ خداوندی سمجھے بغیر استعمال کرنا یا اسے عطا کرنے والے کی مرضی کے علی الرغم اپنی مرضی سے کام میں لانا یا اسے برباد کرنا' یہ سب ناشکری ہیں جو آخرت کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر زمین پرانسانی حیات کے لئے بھی نقصاندہ ہیں۔ وسائل حیات کی بربادی اس درجہ ناگوار ہے کہ اللہ تعالی نے قران کریم میں دوسرے مقام پر تاکید کی ہے کہ کم سمجھ لوگوں کو مال نہ دے دو کہ جس مال کو اللہ تعالی نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے [ ولا تئو توا السفھاءاموالکم التی جعل اللہ لکم فیھا قیاما ۔القران 4:5]۔
اس مضمون پر مشتمل کہ زمین پر روزی کی تلاش میں تگ و دو کی جائے اور اسے اہمیت دی جائے ، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری احادیث ہیں جن میں ترغیب کے ساتھ حکم بھی ہے۔ ایک روایت میں حلال روزی کی تلاش کو فرائض کے بعد ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ [ طَلَبُ کَسْبِ الۡحلَالِ فَرِيۡضَةٌ بَعۡدَ الۡفَرِيۡضَة۔ شعب الایمان ، باب فی حقوق الاولاد الخ ، ۶ / ۴۲۰،حدیث:۸۷۴۱]۔ قران کریم میں سورہ جمعہ میں نماز جمعہ کے بعد زمین پر پھیل کر روزی تلاش کرنے کا جو حکم دیا ہے اس سے بھی اس روایت کی معنویت سمجھ میں آتی ہے اور دین میں احکام کی مطلوبہ ترتیب کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ متذکرہ آیت اور اس کا ترجمع درج ذیل ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا نُـوْدِىَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّـٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ۔ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوْا فِى الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ وَاذْكُرُوا اللّـٰهَ كَثِيْـرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، تمہارے لیے یہی بات بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ پس جب نماز ادا ہو چکے تو زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ [القران 10۔9: 62] [DWA1]
فرائض کی اولیت برقرار رکھتے ہوئے زمین میں اپنی معاش کے لئے تگ و دو اس طرح کرنا چاہئے کے اللہ تبارک و تعالی کی یاد سے اس موقع پر بھی غافل نہ ہوا جائے۔ ہم اسے اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ کی یاد کا موقع صرف وہ نماز نہیں ہے جو مسجد میں ادا کی جاتی ہے بلکہ دنیا کا وہ بازار بھی ہے جہاں اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے جانا ہوتا ہے۔ اس یاد کے جو تقاضے مسجد سے متعلق ہیں وہ وہاں ادا ہوں گے اور جو مسجد کے باہر ہیں ان پر عمل وہاں ہو گا۔ اللہ کی یاد سے غافل ہونے کا محل نہ مسجد ہے اور نہ مسجد کے باہر بازار کی دنیا۔
درج بالا امور کی اہمیت یہ بھی ہے کہ کچھ مذاہب کی تعلیمات اور اکثر دینی حلقوں کا تصور یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کی ضرورتوں کے لئے کاوش اور اس کو بہتر بنانے کی سمت میں کی جانے والی کوششیں یا تو بنیادی طور پر ناپسندیدہ ہیں یا کم از کم مجبوری میں ناگزیر حد تک ہی گوارا کرنے چیزیں ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی رویہ یہ ہے کہ وسائل حیات کو حاصل کرنا اور اان کے ذریعہ زمین پر انسانی زندگی کی ترقی کی سعی کرنی چاہئے۔ البتہ اس پورے عمل میں اسلام نے چند حدود و قیود کا لحاظ کرنے کا حکم دیا ہےجن پر عمل کرنا لازم ہے۔اسلامی تصور یہ ہے کہ انسان زمین میں بکھری ہوئی دولت بشمول وہ جوکسی کے قبضہ قدرت میں آ جائے ' کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہے جب کہ انسان اس کے خلیفہ کی حیثیت سے ان احکامات کا پابند ہے جو حقیقی مالک نے اس سلسہ میں صادر فرمائے ہیں۔ اس لئے دولت کا حصول ہو، اس کا استعمال ہو، اس کے اضافہ کے لئے مشغول کرنا ہو یا بچی ہوئی دولت کا محفوظ رکھنا ہو، ان سب سے متعلق اسلامی شریعت جو بھی راہ عمل تجویز کرتی ہو ان پر کاربند رہنا انسان کے لئے ضروری ہے۔ حصول دنیا اصلاًنامطلوب نہیں ہے بلکہ اللہ و رسول اللہ کے احکامات کو نظر انداز کر کے دنیا کے معاملات میں اس درجہ ملوث ہو جانا کہ آخرت کی کامیابی متاثر ہو جائے' غلط ہے۔ حسنات آخرت کو متاثر کئے بغیر حسنات دنیا کا حاصل ہو جانا اسلام کا مطلوب دینی طرز عمل ہے جب کہ آخرت کی ناکامی کو ساتھ دنیا کی کامیابیوں کے لئے کیا جانے والا عمل مبغوظ ہے۔
وہ مال اچھا ہے جو صالح طریقہ سے حاصل ہو۔ اس کی توفیق صالح فرد کو ہی ہو سکتی ہے۔ اس بات کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی حسین پیرایہ میں بیان کیا ہے۔ صحابی رسول حضرت عمر وبن العاصرض کی روایت ہے کہ آں حضرت صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے کپڑے اور تلوار کے ساتھ طلب کیا۔ اس وقت آپﷺ وضوء بنا رہے تھے اور حضرت عمرو ؓسے فرمایا کہ وہ انہیں ایک ایسی مہم پر بھیج رہے ہیں جہاں انہیں فتح بھی حاصل ہو گی اور مال بھی حاصل ہو گا۔ صحابی رسول نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول میں آپ پر ایمان مال کی طلب میں نہیں لایا ہوں۔ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صالح شخص کے لئے صالح مال اچھا ہے (نعم المال الصالح للرجل الصالح)۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں۔ نعما بالمال الصالح للرجل الصالح۔ یعنی کیا ہی خوب ہے صالح مال صالح شخص کے لئے۔
اس طرح اسلام نے صالح اور غیر صالح مال کی تفریق کر دی۔ اشیاء کے سلسلہ میں اسلامی رویہ یہ ہے کہ ہر چیز اصلاً جائز ہے تاآنکہ اس کہ ناجائز ہونے کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ علامہ یوصف القرضاوی نے اس اصول کی جس طرح وضاحت کی ہے اس کا اقتباس درج ذیل ہے۔
"اسلامی شریعت کا ایک متفقہ اصول یہ ہے کہ بنیادی طور پر ہمیں ہر چیز کو جائز اور حلال تصور کرنا چاہیے سوائے ان چیزوں کے جنھیں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر حرام قراردے دیا ہو۔۔۔۔ البتہ وہ چیزیں حرام قراردی جائیں گی جنھیں اللہ نے واضح طور پر حرام قراردے دیا ہے۔ کوئی چیز اگر واضح طور پر قرآن و حدیث میں حرام نہیں ہے تو پھر ہمیں اسے حرام قراردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو گناہ گارہوں گے ۔ اس لیے کہ یہ بات اللہ کی مرضی کے خلاف ہو گی۔کسی شے کو حرام یا حلال قراردینا صرف اللہ کا حق ہے۔ ہمارا اور آپ کا نہیں ۔کسی چیز کو اگر اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں قراردیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز اصلاً حلال اور جائز ہے اسی لیے فقہائے کرام کہتے ہیں کہ کسی شے کو حلال ثابت کرنے کے لیے دلیل پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن اسے حرام ثابت کرنے کے لیے دلیل ضروری ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم انسانوں کے لیے جو چیزیں حرام ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت میں ان کی وضاحت کر دی ہے اللہ فرماتا ہے: [وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّمَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِرتُم إِلَيهِ …[6:119. "حالانکہ اللہ نے تمھارے لیے ان سب چیزوں کی تفصیل بیان کر دی ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں سوائے یہ کہ تم حالت اضطرار میں ہو۔"
"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "مَا أَحَلَّ اللهُ في كِتَابِهِ فَهُوَ حُلالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنهُ فَهُوَ عَفوٌ فَاقبَلُوا مِنَ اللهِ عَافِيَتَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ لم يَكُنْ لِيَنسَى شَيئًا" (حاکم) "اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جسے حلال قراردیا ہے وہ حلال ہے اور جسے حرام قراردیا ہے وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے وہ اس کی طرف سے چھوٹ ہے تو اللہ کی اس چھوٹ کو قبول کرو کیوں کہ ایسا نہیں ہے کہ اللہ اس کا حکم بیان کرنا بھول گیا۔" [4]
درج بالا اصول کے تحت کسی مال کے صالح اور غیر صالح ہونے کی بحث میں ہمارا نقطہ نظر صرف یہ ہونا چاہئے کی وہ غیر صالح تو نہیں ہے۔ کیونکہ اگر غیر صالح نہیں ہے تو لازماً وہ صالح مال ہے۔ اس طرح دیکھنے کی چیز صرف یہ ہے کہ کسی مال کی اپنی نوعیت اور اس کے حاصل ہونے'صرف ہونے 'جمع کرنے اور مزید ترقی دینے کے لئے استعمال یعنی مشغول ( (Invest کرنے کے کسی مرحلہ میں کوئی غیر صالح عنصر نہ ہو ۔ اس سلسلہ میں سہولت کادوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے حلال کی کوئی فہرست فراہم نہیں کی ہے کیونکہ اس کی نگاہ میں چیزیں اصلاًجائز ہیں۔ اس کی جگہ پر حرام کی چھوٹی سی فہرست فراہم کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
مزدور کا وقار (Dignity of Labour)
یہ اصطلاح آج کے زمانہ میں بہت استعمال ہو تی ہے۔ اسلامی تناظر میں یہ معاملہ اس بنیادی اصول سے متعلق ہے کہ انسانی شرف کی حقیقی بنیاد کیا ہے اور اس میں کسی فرد کے پیشہ اور ذریعہ ا ٓمدنی کا کیا مقام ہے؟ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں جزیرۃالعرب اور خصوصاً مکہ شہر میں انسانی شرف کی جو بنیادیں تھیں ان میں ایک فرد کے ذریعہ آمدنی کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔ کسی فرد کے سماجی مرتبہ و مقام کے متعین ہونے میں اس کے قبیلہ' جہاں اس کی پیدائش ہوئی ہو' کے ساتھ ساتھ اس کی دولت' لڑکوں کی تعداد' زبان دانی خصوصاً خطابت و شاعری' حسن و وجاحت' زور بازو جیسے اوصاف کے ساٹھ اس کے آمدنی کے ذریعہ اور پیشہ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ مکہ اور طائف تاجروں کا شہر تھا اس اس کے مکین کا سماجی مرتبہ بلند تھا۔ مدینہ میں عموماً کاشتکاری اور باغبانی کاپیشہ تھا اور وہاں کے افراد' یعنی تاجر پیشہ مکہ کے لوگوںکی نگاہ میں کمتر حیثیت کے حامل تھے۔ غزوہ بدر میں باضابطہ لڑائی شروع ہونے کے قبل رواج کے مطابق قریش کے تین سورما 'عتبہ بن ربیعہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید بن عتبہ میدان میں آگے آئے اور مبارزت (جنگ) کی دعوت دی تو مسلمانوں کی طرف سے تین انصاری صحابی نکلے۔ قریشیوں نے مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا اور چلا کر کہا ''اے محمد (ﷺ) مقابلے میں قریشی بھیجو، ہم بہادر ہیں چرواہوں سے نہیں لڑتے ۔"چنانچہ حضور ﷺ کے ارشا د پر حضرت امیر حمزہ ؓ' حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ ؓ مقابلے کے لئے نکلے۔مغرور قریشی سرداروں نے ان کے نام پوچھے اور ہامی بھر دی''ہاں تم ہمارے ہم پلہ ہو۔''
خود مکہ میں مقیم جو لوگ پیشہ کے لحاظ سے کمتر تھے وہ جاہلیت زدہ انسانوں کی نگاہ میں کمتر تھے۔اس کی انتہا درجہ کی مثال ابو جہل کی ہے کہ مرتے وقت بھی یہ غرہ اس کے ذہن میں موجود تھا۔ اسے مُعَاذ اور مُعَوّذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نام کے دو انصاری بچوں نے گھائل کر دیا تھا۔ جنگ کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجارہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا : او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟" اس نے کہا : ''مجھے کاہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کوتم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے''؟ پھر بو لا : ''کاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔'' اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے ' جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے سےکہنے لگا : "او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ "واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
پیشہ کے اعتبار کے کسی کی حیثیت طئے کرنے کا مرض ماضی کا کوئی عجیب واقعہ نہیں ہے۔ آج کی دنیا جو متمدن کہی اور سمجھی جاتی ہے 'میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ اپنے ہاتھ سے اپنی روزی حاصل کرنے والے مزدور ناقدری کی نگاہ سے آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔
یہ مرض اتنا بڑا تھا (بلکہ ہے)کہ اس کے علاج میں آں حضرت ﷺ نے صرف قولی روایت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی ذاتی مثال سے ایک حسین اسوہ چھوڑا ہے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی کمائی سب سے بہتر ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا "انسان کا اپنے ہاتھکام کر کے کمانا (عمل الرجل بیدہ)۔ [عن رافع بن خدیجؓ۔ رواہ احمد]۔ دوسرے موقع پر فرمایا "اس شخص سے بہتر کھانا کسی شخص نے نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھائے ( ما اکل احد طعاما قط خیرا من ان یاکل من عمل یدہ)۔ اللہ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔" [عن مقدامؓ۔ رواہ بخاری]
اس سلسلہ میں آں حضرت ﷺ کا اپنا اسوہ اتنا واضح اور روشن ہے کہ اس کے بعد اس موضوع پر کچھ اور بیان کرنے کی حاجت نہیں رہتی ہے۔
مدینہ میں مسجد نبوی تعمیر ہوئی تو آپ ﷺ خود بھی اس کی تعمیر میں بھر پور شرکت کی۔ غزوہ احزاب کے موقع پر مدینہ منورہ کے گرد خندق کھودی گئی تو صحابہ کرام کے ساتھ آپ ﷺ بھی زمین کھودنے کے کام اور ملبہ ہٹانے کے کام میں حصہ لے رہے تھے۔ کدال اور پھاوڑا چلانا ہو یا مٹی و پتھر کو دور ہٹانا ہو 'دیگر 'مزدوروں' کے ساتھ یہ "مزدور" بھی برابر کے شریک تھے کہ جن سے زیادہ عالی مرتبت شخص اس زمین نے نہ پہلے دیکھے اور نہ آئندہ دیکھ سکے گی [تسلیماً کثیراً کثیرا]۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ّّ ﷺ کوئی پتھر اٹھاتے اور کوئی صحابی دوڑ کر لے لیتے تو دے دیتے اور پھر اس سے بڑا پتھر اٹھا لیتے۔ ایک سفر میں پڑاو کے وقت تمام لوگوں کے درمیان کام کی تقسیم ہوئی' جیسے جانور کی قربانی کرنا' کھانا پکا نا' خیمہ لگانا وغیرہ تو اصحاب کرام کے منع کرنے کے باوجود آپ نے لکڑیاں چن کر لانے کا کام اپنے ذمہ لے لیا۔ غزوہ تبوک کے سفر میں جب ایک صحابی عبداللہ ذولبجادینؓ کا انتقال ہوا تو آپ نے دیگر افراد کے ساتھ رات کی تاریکی میں ان کی قبر کھودنے کا کام کیا۔
درج بالا قولی و عملی اسوہ کے ساتھ ساتھ حضرت محمد ﷺ نے مزدور اور اس کی مزدوری کے سلسلہ میں واضح احکامات صادر کئے۔ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے قبل اس کی مزدوری دے دے جائے' اجرت متعین کرنے کے بعد کام شروع کیا جائے' ان پر اتنے ہی کام کا بوجھ ڈالا جائے جو وہ برداشت نہ کر سکیں اور اگر کام کا بوجھ زیادہ ہو تو آجر بذات خود ان کے کام میں ہاتھ بٹا کر ان کا بوجھ ہلکا کر دے' مزدور کی پوری اجرت دی جائے کیونکہ ایسا نہ کرنے والے سے قیامت کے دن اللہ تعالی انتہائی درجہ ناراض ہو گا۔ ایک دفعہ حضور ﷺ نے ایک صاحب کے ہاتھ پر سیاہ نشان دیکھ کر اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی روزی کے نظم میں پتھروں پر کدال چلانے کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سیاہ نشان بن گئے ہیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ ان کا ہاتھ چوم لیا۔
معیشت سے متعلق اسلامی رویہ میں مزدور کے وقار و شرف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دراصل یہ اسلامی معیشت کا نقطہ آغاز ہے۔ اسلام میں معاشی عمل کی اصل غرض انسانی ضروریات کی تکمیل ہے۔ انسانوں کی پہلی کھیپ جس سے معاشی عمل کو سابقہ پیش آتا ہے وہ مزدور ہی ہے جو اس عمل میں راست شریک ہوتا ہے۔
[waquaranwar@yahoo.com]
[1] شاہ ولی اللہ 'حجۃاللہ البالغہ ، جلد اول، ترجمہ سعید احمد پالنپوری، زم زم پبلشرز، دیوبند، صفحات 441،455
[2] سید سلیمان ندوی ، سیرت النبی جلد پنجم، مطبع معارف دارلمصنفین اعظم گڈھ 1984ء صفحہ 7
[3] ایضاً صفحات 3۔4
[4] یوصف القرضاوی'فتاویٰ یوصفالقرضاوی' اجتماعی ومعاشی مسائل،جلد:2' مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز' نئی دلی'،صفحہ:233